صرف تین اجزاء سے کولیسٹرول کنٹرول کریں!*

🍄*کولیسٹرول*🍄

👈*صرف تین اجزاء سے کولیسٹرول کنٹرول کریں!*

کولیسٹرول، چربی یا چکنائی کی ایک قسم ہے جو ہر جانور میں پائی جاتی ہے، اور جانوروں کے جسم کے بہت سارے افعال میں کام آتا ہے جیسے سیل ممبرین بنانا، جسم کو توانائی فراہم کرنا، وٹامن ڈی بنانا، نظامِ ہضم میں مدد دینا وغیرہ۔

انسان میں، جگر ہر روز ایک مخصوص مقدار میں کولیسٹرول بناتا ہے اور اسےخون میں چھوڑتا ہے، جو اپنی ضروری افعال سرانجام دیتا ہے، لہذا اگر انسان کی خوراک میں کولیسٹرول نہ بھی شامل ہو تو کوئی مسئلہ نہیں۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان کی خوراک میں زیادہ کولیسٹرول شامل ہو جاتا ہے، اور نتیجے میں خون میں کولیسٹرول کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ ہر وہ خوراک جو انسان جانوروں سے حاصل کرتا ہے اس میں کولیسٹرول شامل ہوتا ہے، جیسے گوشت (کسی بھی جانور کا)، دودھ اور دودھ سے بننے والی تمام مصنوعات جیسے پنیر، مکھن، دہی گھی وغیرہ انڈے اور بیکری کی تمام مصنوعات وغیرہ۔ اور ہر وہ خوراک جو پودوں سے حاصل کی جاتی ہے ان میں کولیسٹرول نہیں ہوتا جیسے سبزیاں اور پھل وغیرہ۔

خون میں کولیسٹرول کی زیادہ مقدار کا مطلب ہے کہ زائد کولیسٹرول جگر میں واپس نہیں جائے گا بلکہ شریانوں میں جم جائے گا، اسکی مثال ایسے ہے جیسے برتن میں چکنائی لگی ہو تو اسے خالی پانی سے جتنا چاہیں دھوئیں وہ نہیں ہٹے گی بلکہ اس کو دور کرنے کیلیے کسی ڈیٹرجنٹ کی ضرورت ہوگی، اسی طرح کولیسٹرول جو کہ چکنائی ہے خون میں موجود پانی سے نہیں ہلتی بلکہ اس کیلیے بھی ایک “ڈیٹرجنٹ” کی ضرورت ہے۔

اور یہ ڈیٹرجنٹ کولیسٹرول کی ہی ایک قسم ہے، دراصل کولیسٹرول کی تین چار قسمیں ہیں، ایل ڈی ایل (لو ڈینسٹی لیپی پروٹین کولیسٹرول)، وی ایل ڈی ایل، ایچ ڈی ایل وغیرہ۔ ان میں سے دو اہم ہیں، ایل ڈی ایل اور ایچ ڈی ایل۔ ایل ڈی ایل اصل برائی کی جڑ ہے، کہ یہ اگر زیادہ ہو تو شریانوں میں جم کر خون کا راستہ روک دے گا جس سے دل کی بیماری جنم لیتی ہے۔ اور ایچ ڈی ایل اچھا کولیسٹرول ہے یعنی ڈیٹرجنٹ ہے جو خون میں موجود زائد کولیسٹرول کو جڑوں سے اکھیڑ کر واپس جگر میں بھیج دیتا ہے۔

ایل ڈی ایل خون میں جتنا کم ہو اتنا ہی اچھا ہے، اس کی مقدار کسی بھی وقت خون میں 130 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر (یعنی ایک لیٹر خون میں ایک اعشاریہ تیس گرام) سے زائد نہیں ہونی چاہیئے۔

ایچ ڈی ایل خون میں جتنا زیادہ ہو اتنا ہی اچھا ہے، اسکی مقدار کسی بھی وقت خون میں 40 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم نہیں ہونی چاہیئے، 60 سے زائد ہو تو آپ خوش قسمت ہیں۔

ٹوٹل کولیسٹرول کی مقدار 200 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے زائد نہیں ہونی چاہیئے۔

اگر آپ کے خون میں یہ مقداریں زیادہ یا کم ہیں تو دل کی بیماری لگنے کا خدشہ ہے، ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ ہر صحت مند انسان کو پانچ سال میں کم از کم ایک دفعہ مکمل کولیسٹرول ٹیسٹ ضرور کروانا چاہیئے، اس ٹیسٹ کا نام “لیپیڈ پروفائل” Lipid Profile ہے۔

*کولیسٹرول کو خون میں کم کرنے کے دو طریقے بہت موثر ہیں:*
روزانہ، کم از کم آدھ گھنٹہ ورزش، اس سے نہ صرف مجموعی کولیسٹرول اور ایل ڈی ایل کم ہوتا ہے بلکہ ایچ ڈی ایل زیادہ ہوتا ہے اور بلڈ پریشر بھی کنٹرول میں رہتا ہے۔

خوراک میں احتیاط، آپ کو علم ہونا چاہیئے کہ جو چیز آپ کھا رہے ہیں اس میں کولیسٹرول کتنا ہے، انسان کے روزانہ کولیسٹرول خوراک کی زیادہ سے زیادہ مقدار 300 ملی گرام ہے اور ایک انڈے کے زردی میں 260 ملی گرام کولیسٹرول ہوتا ہے، اسی طرح ایک پاؤ گوشت میں تقریباً 150 ملی گرام کولیسٹرول ہوتا ہے، سو کوشش یہی ہونی چاہیئے کہ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال زیادہ کرنا چاہیئے۔

لیکن کسی بھی صورت میں روزانہ ورزش بہت ضروری ہے اور دوا کے بغیر کولیسٹرول کم رکھنے کا یہ سب سے اہم اور مؤثر طریقہ ہے۔
*صرف تین اجزاء سے کولیسٹرول کنٹرول کریں!*
یہ تو ہم سب ہی اچھی طرح جانتے ہیں کہ جنک فوڈ اور چینی پر مشتمل کھانے ہماری قلبی صحت کے لئے تباہ کن ہوسکتے ہیں اور کولیسڑول کی شکل میں آپکی شریانوں میں جمع ہوکر آپکے دل پر غیر ضروری دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ عموماً لوگ خون پتلا کرنے اور ہائی کولیسڑول کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لئے دیگر ادویات پر انحصار کرتے ہیں لیکن اس مسئلہ کو صرف کھانے میں پرہیز اور پیدل چلنے کے عمل کے ذریعے بآسانی حل کیا جاسکتاہے ۔ایل ڈی ایل کولیسڑول کی اضافی سطح عام طور پر تمباکو نوشی، غیر متوازن غذا، غیر فعالیت ،ذیابیطس اور موٹاپے سے منسلک ہے۔ ہائی کولیسٹرول کے باعث پلاک شریانوں کی دیواروں پر جم جاتاہے جس کے نتیجے میں جسم میں خون کا بہاؤ متاثر اور دل کی بیماری اور فالج کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔عموماً کیسز میں ذیادہ تر ہائی کولیسٹرول صرف ایک غیر متوازن طرز زندگی (Vitality) کی عکاسی کرتاہے۔

*کولیسٹرول کم کرنے کی ترکیب*
یہ ریسیپی خراب کولیسٹرول کو توڑنے میں مدد کر ے گی اور آپکی شریانوں سے کولیسڑول کو صاف کرے گی اور اس سے آپکو صحت مند زندگی کی طرف واپس آنے میں مدد ملے گی اسکے ساتھ ساتھ یہ غذائی اجزاء آپکے جسم کو توانائی فراہم کریں گے۔

*ترکیب*
صاف پانی چار لیٹر
دیسی لیموں آٹھ عدد
دیسی لہسن آٹھ کلیاں(پورے لہسن نہیں صرف کلیاں)
دیسی ادرک چار سے پانچ سینٹی میٹر

*ہدایات*
۱۔لیموں کو بہت اچھی طرح دھولیں۔
۲۔لیموں چھیلے بغیر بیج نکال کر باریک سلائس کرلیں۔
۳۔ادرک لہسن کو چھیل کر الگ الگ کچل لیںیا چاپ کرلیں۔
۴۔لہسن کچل کر پندرہ منٹ کے لئے چھوڑ دیں۔ اس عمل سے اسمیں الیکن ایکٹیویٹ ہوگا۔
۵۔اسکے بعد لیموں ،ادرک اور لہسن کو اچھی طرح بلینڈ کرلیں۔
۶۔اب ایک درمیانے ساس پین میں چارلیٹر پانی اور یہ پیسٹ ڈال کر ہلکی آنچ پر ایک ابال آنے تک پکائیں۔
۷۔جب ابال آنے لگے تو چولھے سے اتار دیں۔
۸۔ٹھنڈا ہونے پر چھان لیں ۔
۹۔شیشے کی ایئر ٹائٹ جار یا بوتل میں فرج میں رکھیں۔

*استعمال کا طریقہ*
روزانہ خالی پیٹ کھانے سے دو گھنٹہ قبل استعمال کریں ۔
اسکے استعمال کے ساتھ ساتھ روزانہ یا ہفتے میں کم از کم تین دفعہ ورزش ضرور کریں یا تیس منٹ پیدل چلیں۔
اپنے ڈاکٹر کے مشورہ سے استعمال کریں۔

*ان تینوں اجزاء کا کام*
*ادرک*
ادرک شریانوں میں پلیٹلیٹس کو جمع ہونے سے روکتی ہے۔ادرک وزن میں کمی کے ساتھ ساتھ جمع فیٹی ذخائر کو محدور کرتی ہے اور دل کی بیماری سے روکتی ہے۔مزید برآں اسکے دیگر ادویات کی طرح سائڈ افیکٹس نہیں ہیں۔

*لہسن*
روایتی طور پر دل کی بیماری اور فالج کے ہونے والے خطرناک عوامل جو شریانوں کو سخت کرنے کا باعث بنتے ہیں انکے علاج کے لئے لہسن بہت مفید ہے لہسن ہائی کولیسٹرول اور ہائی بلڈپریشر کا علاج کرتاہے اور مدافعتی نظام کو بڑھاتاہے۔ لہسن اینٹی آکسیڈنٹ پر مشتمل ہے جو فری ریڈیکلز سے لڑنے، دل کی بیماری ، کینسراور الزائمر کی بیماریوں کی روک تھام کے لئے انتہائی مفیدہے۔

*لیموں*
لیموں خون کے سرخ خلیوں کی تعداد میں اضافہ کرتاہے۔ روزانہ لیموں کا استعمال اور پیدل چلنے سے لو بلڈ پریشر پر اہم اثرات ہوتے ہیں لیموں جگر کو ڈیٹوکس کرنے میں مدد اور اضافی کولیسٹرول کو ہٹاتاہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: